ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تعلیمی اداروں کے ذمہ دار جذباتی طور پر اداروں سے جڑے رہیں گے تو طلبا کو بہتر تعلیم فراہم کی جاسکتی ہے: پروفیسر محمد مزمل

تعلیمی اداروں کے ذمہ دار جذباتی طور پر اداروں سے جڑے رہیں گے تو طلبا کو بہتر تعلیم فراہم کی جاسکتی ہے: پروفیسر محمد مزمل

Sat, 25 Mar 2017 11:05:20    S.O. News Service

بنگلورو،24؍مارچ (ایس او نیوز) سابق وائس چانسلر آگرہ وبریلی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد مزمل نے حسنات ایجوکیشن سوسائٹی اور یوجی سی ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ سنٹر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اشتراک سے حسنات زنانہ کالج ڈکنسن روڈ بنگلورمیں منعقدہ 4؍روزہ ورکشاپ اکیڈمک لیڈرشپ کے اختتامی اجلاس کے موقع پر اخباری نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہاکہ اس ورکشاپ کے دوران انہوں نے بنگلور کی 32 ؍مختلف کالجوں کے 60؍سے زائد پرنسپلس ، ایچ او ڈی اور لکچررس کے لئے منعقدہ اس ورکشاپ کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ یہ پروگرام تعلیم دینے والے ان ذمہ داروں میں اکیڈمک لیڈرشپ کو بڑھاوا دینے اور کم سے کم خرچ میں بہتر سے بہتر تعلیم کیسے دی جائے یہ گرسکھانے کے لئے اور ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے اور بڑھتے اخراجات کو کم کیسے کریں اور طلبا کو بہتر تعلیم کیسے دی جائے یہ بتانے منعقد کیاگیا۔ انہوں نے ایک ریسورس پرسن کی حیثیت سے گزشتہ دو دنوں میں یہ دیکھ کر خوشی محسوس کی کہ شمالی ہند کے مقابلے جنوبی ہند اور خصوصاً بنگلور کے اکیڈمک افراد میں بہتر سوچ اور معلومات حاصل کرنے کا مادہ زیادہ ہے۔ انہوں نے اس پروگرام میں دیکھا کہ تمام لکچررس اور ذمہ دار احباب نے پوری دلچسپی دکھائی۔ اگر تعلیمی اداروں سے جڑے ذمہ دار احباب اورلکچررس جذباتی طور پر اداروں سے جڑے رہیں گے تو بہتر تعلیم فراہم کی جاسکتی ہے زیادہ تر تعلیمی اداروں میں جب کہ یہ بات دیکھنے کو نہیں ملتی۔ تمام مندوبین نے اس پروگرام میں پوری دلچسپی دکھائی اور نوٹ بھی لکھتے رہے۔ چند ایک نے کہا کہ انہوں نے اپنی اپنی کالجوں میں طلبا کو بھی یہ گر آج بتائے ہیں اس طرح اس خوبی کو ہر جگہ پھیلایا جاسکتا ہے۔ اترپردیش کے مقابلے کرناٹک اور جنوبی ہند میں اعلیٰ تعلیم کا نظام بہتر ہے۔ اس کالج میں خواتین کی بڑی تعداد تدریسی شعبہ سے اور حصول تعلیم کے شعبہ سے جڑی ہوئی ہے جب کہ یوپی میں یہ بات بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہوں نے یوپی میں دوسال تک آگرہ یونیورسٹی اور3؍سال تک بریلی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمت انجام دی ہے۔ بریلی یونیورسٹی میں پہلے صرف230؍کالج تھے آج ان کی تعداد 400؍سے زائد ہے۔ آگرہ یونیورسٹی میں پہلے 600؍کالج تھے آج 900؍سے زائد کالج ہیں اور ہر سال وہاں بھی کالجوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بریلی یونیورسٹی 1975میں قائم ہوئی جب کہ آگرہ یونیورسٹی 1927 میں قائم ہوئی اور آگرہ کا کالج 1823میں قائم ہواتھا اس دور میں اعلیٰ تعلیم کے لئے لوگ یا تو پریسی ڈنس کالج لاہور یا کلکتہ جاتے تھے۔ انہوں نے ستائش کی کہ جنوبی ہند میں تعلیم کے میدان میں اچھا کام ہورہا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے انجمن کالج بیجاپور، کرناٹک یونیورسٹی دھار واڑ میں بھی لکچرس دیئے ہیں۔ انہوں نے مسلم تعلیمی اداروں کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے تعلیمی معیار کو اور زیادہ بڑھائیں اور جدید تعلیم کے تقاضوں کو پورا کریں۔ اپنی تہذیب اور ثقافتی قدروں کو بحال رکھیں۔ تعلیم کے ساتھ طلباء کی کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دیں اور سماج کے لئے رول ماڈل بنیں۔ حسنات ایجوکیشن سوسائٹی کے سکریٹری وہاب خان نے بتایا کہ اس چار روزہ اکیڈمک لیڈرشپ تربیتی پروگرام میں 32؍کالج کے پرنسپلس اور لکچررس نے حصہ لیا جن میں مہارانیس کالج، عباس خان کالج ،الامین کالج اور کئی سرکاری کالجوں کے لکچرس اور پرنسپلس بھی شامل تھے۔ مولانا محمد شمش الدین کی قرأت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر محمد سہیل اقبال پرنسپل نے خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر اللہ بخش کورس کوآرڈی ینٹر کے شکریہ پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔ 


Share: